سانحہ ساہیوال میں ملوث سی ٹی ڈی افسر کو بھی یوم پاکستان کے موقع پر’ ستارہ شجاعت ‘ سے نواز گیا

ساہیوال .یوم پاکستان کے موقع پر 88 شخصیات کو مختلف شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھانے والی شخصیات کو ایوان صدر میں اعزازات سے نوازا گیا لیکن اب خبر سامنے آئی ہے کہ ان شخصیات میں ایک ایسے افسر بھی شامل تھے جو کہ سانحہ ساہیوال میں ملوث تھے ۔

’ دی نیوز ‘ کی رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی کاونٹر ٹیرازم ڈپارٹمنٹ پنجاب سانحہ ساہیوال میں ملوث اہلکاروں میں شامل تھے ، انہیں 23 مارچ کو خطرات کا سامنا کرنے میں غیر معمولی جرات اور بہادری دکھانے پر ’ ستارہ شجاعت ‘ سے نوازا گیا ، یہ بہادری کیلئے دیے جانے والا دوسرا بڑا سول اعزاز ہے ، ستارہ شجاعت مجموعی طور پر 24 افراد کو دیا گیا جن میں چار افراد ایسے تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں یہ ایوارڈ خود وصول کیا جبکہ دیگر ایوارڈ حاصل کرنے والی شخصیات شہید ہو چکی ہیں۔

آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ممکنہ طور پر خفیہ ایجنسی کے پہلے افسر ہیں جنہیں یہ اعزاز دیا گیاہے ، انہیں یہ ایوارڈ ملتان کے کاونٹر ٹیرازم ونگ کے بطور کمانڈنگ افسر خدمات انجام دینے پر دیا گیاہے ۔ایوارڈ حاصل کرنے والی باقی 20 شخصیات میں زیادہ ڈاکٹرز ہیں جنہوں نے کورونا کے خلاف جنگ میں لوگوں کی جان بچاتے ہوئے شہادت پائی ۔

سی ٹی ڈی کے افسر کو 2019 میں پیش آنے والے اس واقعہ کے بعد معطل کر دیا گیا تھا ، محمد خلیل اپنے اہل خانہ اور ہمسائے ذیشان جاوید کے ہمراہ ساہیوال جارہے تھے کہ راستے میں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گاڑی کو روکا اور دہشتگرد سمجھتے ہوئے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں دو بچوں کے علاوہ تمام افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے ۔

اس واقعہ کے بعد عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ، واقعہ کے ذمہ داران کے طور پر پنجاب حکومت نے سی ٹی ڈی کے پانچ سینئر افسران کو معطل کر دیا جن میں سی ٹی ڈی چیف بھی شامل تھے اور ان کے خلاف اینٹی ٹیرازم کورٹ میں مقدمہ چلایا گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں