تکبّر، تشکّر اور عاجزی

تحریر:آصف شہزاد
اللہ رَبُّ العِزّت نے اپنی ذات اور اپنے اَوصاف سے نسل ِ انسانی کوروشناس کرانے کے لئے ننانوے خوبصورت ناموں کا انتخاب فرمایا۔ اِسی طرح اپنے محبوب نبی رحمتؐ کے لئے بھی اُتنے ہی نام پسند فرمائے۔اللہ رَبُّ العِزّت نے اپنے اِسمائے مبارکہ کو قرآن پاک میں بارباردہرایا تاکہ اس کے اَوصاف انسانوں کے ذہنوں میں پختہ تر ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے جملہ اوصاف میں سے جو اُس کے ناموں سے مُترشّح ہیں،انسان کوبھی لَمس عطا فرمایا۔اِسم”اللہ“،مالکِ کائنات کا ذاتی نام ہے اور باقی تمام صِفاتی نام ہیں۔جیسے وہ رحمان ہے،رحیم ہے، وہّاب ہے،علیم ہے۔ان تمام ناموں اوراسی طرح، دیگر صِفاتی ناموں میں سے بھی اُس نے انسان کو خوشبو عطا فرمائی۔تاہم مالک ِ کُل نے دو نام اپنے لئے مخصوص رکھے۔ ایک ذاتی نام ”اِسمِ جلالت“ہے اور دوسرا صفاتی نام ”مُتکبّر“ ہے۔ ”مُتکبّر“کا مطلب”بزرگی والا،عظمت والا، بڑی شان والا، بڑائی والا“ہے۔یہ وَصف بنیادی طور پر خالق اور مخلوق کے درمیان حدِّ فاصِل کھینچتا ہے،جو بھی اِس حد کوعبور کرنے کی جَسارت کرتا ہے، تاریخِ انسانیت گواہ ہے، وہ ذلیل و رُسوا ہوتا ہے۔ مخلوق میں سے سب سے پہلے جس نے اِس حدِّ فاصِل سے تجاوَز کرنے کی ٹَھانی، اُسے اِبلیس کہا گیااور وہ رہتی دنیا تک دُھتکارا گیا۔وہ تمام معروف اور وقت کے بلند نام، مثلاً،قارون، فرعون، نمرود اور ابوجہل، جنہوں نے زندگی میں شیطان کے طریقہ کے مطابق حدِّفاصِل سے اُدھر قدم رکھا ااور تکبّرکا مظاہرہ کیا،توشیطان کے پیروکار قافلہ کے افراد شُمار ہوئے۔ تکبّر،شِرک کی بڑی قسم ہے۔

قرآن میں ارشاد ہوتا ہے”بے شک اللہ مُتکبّرین کو پسند نہیں کرتا“

نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا ”جس کے دِل میں رائی کے برابر بھی تکبّر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا“

مُتکبّر شخص کو جُملہ الہامی و غیر الہامی مذاہب میں نفرت کی نِگاہ سے دیکھا گیا ہے۔جیسے بائبل کی بارہ ضرب اِمثال، تکبّرکی بیخ کُنی کے گرد گھومتی ہیں۔

انسان کو اللہ تعالیٰ عزّوَجل نے عاجز اور بے بس پیدا کیا ہے۔اُس کی تمام تربساط واختیار کے باوجود،ہر معاملے میں،اس کے لئے ایک سطح متعین کر دی ہے۔جیسے وہ چاہے بھی تو دونوں پاؤں زمین سے اُوپر اُٹھا کر چلنے سے معذور ہے یابغیر کسی مادی ذریعہ کے ہوا میں پرواز کا اختیار نہیں رکھتا۔ تمام تر اِکتسابِ علم اور اَجماعِ دولت کے باوجود، اپنی ایک سانس بھی مقررّہ زندگی سے بڑھانے سے قاصِر ہے۔اگر ایسا ممکن ہوتا تو مائیکل جیکسن جیسا امیروکبیر اور رومانوی سوچ رکھنے والا شخص،اپنے منصوبے کے تحت،تمام طبعی و مالیاتی وسائل بروئے کار لانے کے باوجود،غیر یقینی طور پر موت کے منہ میں نہ چلا جاتا۔

تکبّر کی مختلف اقسام یا مدارج ہیں، جیسے شخصی تکبّر، عہدے یا مرتبے کا تکبّر،خاندانی تکبّر،قبائلی یا علاقائی تکبّر،مذہبی، قومی یا ملکی تکبّر۔ تکبّر کی قسم کوئی بھی ہو، تعصب کو جنم دیتی ہے، جو بالآخر دوسروں کے حقوق اور آزادی کو سلب کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔

انسان کو اُس کے عاجزانہ مرتبہ و مقام کا احساس دِلانے اور اس سے باخبر رکھنے کے لئے جہاں قرآن کریم میں مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ نے بارہا وضاحت فرمائی،وہاں سورۃالرّحمن میں اکتیس بار ایک ایک نعمت گنواکر بتایا کہ انسان ان تمام نعمتوں کے لئے اس کا محتاج ہے۔کہیں انسان اپنی عاجزانہ حیثیت کو فراموش نہ کربیٹھے،اِس کی مکّرر یقین دہانی کے لئے رب نے انبیاء ورُسل کی ایک بڑی تعداد اُسے باور کرانے کے لئے مبعوث فرمائی اور یہ سلسلہ نبی ئ رحمتؐ پر اختتام پذیر ہوا۔ مزید یاد دہانی کا تسلسل صحابہ کرامؓ،آئمہ کرام وسلف صالحین کے ذِمّہ ٹھہرا۔

اللہ تعالیٰ عزّوَجل کاپیغام،ہر پیغام کا ایک ایک لفظ،اورہر لفظ کا جُدا جُدا حرف، چارسُو گونج رہا ہے کہ انسان عاجز ہے، اسے اپنے خالق کا مدمقابل بن کر اعلانِ شِرک نہیں کرنا۔پھر بھی انسان عاجزی کو اختیار کرتے ہوئے اپنی ہزیمت محسوس کرتا ہے۔آج سیاسی، معاشی، معاشرتی، انتظامی میدانوں میں،غیر ہم آہنگی اورعدم توازن کی سب سے بڑی وجہ انسان کا خود کو”مَیں“ کے لباس میں ملبوس کرنا ہے۔جہاں معاشرے کے عام افراد یا سرکاری دفاتر اور دیگر اعلیٰ مرتبوں پر بیٹھے ناخدا،اپنی خداداد حیثیت، جو عام لوگوں سے اُنہیں ممتاز کرتا ہے،کی بدولت تکبّر کا مظاہرہ کرتے ہیں،وہاں یہ حدِّفاصِل، وہ شملہ پوش حضرات بھی عبور کرتے رہتے ہیں، جن کے ذِمّہ معاشرے کی اصلاح اور عاجزی کی تبلیغ ہے۔

عاجزی اور تشکر لازم و ملزوم ہیں۔تکبّر سے بچنے اور عاجزی کے ارفع مقام پر فائز ہونے کے لئے تشکر کی عادت کا ہونا بہت ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسی تشکّر کی بجا آوری کے لئے،سورۃ الرّحمن میں اپنی نعمتیں اکتیس بارگِنوائی ہیں، اور ساتھ ہی انسان کی جبلت کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ عزّوَجل قرآن پاک کی سورۃ”اَلعٰدِیَت“میں ارشاد فرماتا ہے”بیشک انسان اپنے رب کابڑاہی نا شُکرا ہے، اور وہ خود اِس”بات“ پرگواہ ہے“۔نبی پاکؐ نے ارشاد فرمایا:

”جو بندے کا شُکر ادا نہیں کر تا وہ رب کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتا“

اللہ تعالیٰ کے جملہ انعامات میں سے ایک انعام یہ بھی ہے کہ اس نے کچھ انسانوں کواِس قابل بنایا ہے کہ اُن کے اندر دوسروں کے کام آنے کا جذبہ رکھا ہے۔ لہٰذا اُن کی نیکی کے بدلے میں اُن کا ممنون ہونا انتہائی لازم ہے۔ عام،سماجی و دیگر معاشرتی تعلقات میں انسان کے شکرگزاری کے سب سے بڑے حقدار والدین اور اساتذہ ہیں جو اس کی پرورش اور تربیّت کے ذمّہ دار ہیں۔اگرچہ شکرگزاری کو زبان سے ادا ہوتے رہنا چاہئے تاہم روّیے کی زبان سے بھی شکرکا ادا ہوناضروری ہے،کیونکہ وہ احسان مندی یا احسان فراموشی کاکھلا اعلان ہوتا ہے۔ تشکر کی روایت سے جہاں بھلائی کی ثقافت قائم ہوتی ہے وہاں شکر گزار شخص کی اپنی طبّی،روحانی، جذباتی اور سماجی نُمو ہوتی رہتی ہے۔ ذہنی دباؤ، یاس و نا امیدی اور دیگر ذہنی امراض سے آزادی کی صورت بنی رہتی ہے۔ سب سے اہم یہ کہ شکر گزاری کی عادت اپنانے سے انسان دوسرے کی خطائیں معاف کرنے کی طرف مائل رہتا ہے۔ہمیں معاشرے کی بہتری میں حصّہ ڈالنے کے لئے شکرگزاری کاوصف اپنانا ہوگا اور وہ تبھی اپنا سکتے ہیں اگر ہم میں عاجزی کا عنصر موجود ہے۔بغیر عاجزی کے،شکرگزاری کی نعمت حاصل نہیں ہو سکتی، اور ہر ناشکرا شخص حدِّفاصِل سے تجاوَز کرتا رہتا ہے اور وادیئ تکبّر میں گرتا چلا جاتا ہے،جہاں شیطانی قافلہ اسے حرفِ ستائش سے نوازتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں