”اگر فوری اقدامات نہ کیے تو زیادہ پابندیاں لگانی پڑیں گی کیونکہ ۔۔“برطانیہ ویرنٹ کورونا کا پھیلاﺅ تیز ، اسد عمر نے صورتحال بتاتے ہوئے خبردار کر دیا

اسلام آباد .وفاقی وزیر اسد عمر نے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ میں تیزی سے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شائدہ ہمارے لوگوں کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ ہم کتنی خطرناک صورتحال کا سامنا کررہے ہیں کورونا کی تیسری لہر میں نئے ویرنٹس آئے ہیں ، یہ زیادہ مہلک ہے ، یہ پھیلاﺅ میں تیزی کی وجہ بنی ہے ، یہ بتانے کا مقصد خوف پیدا نہیں کرنا ہے، ہم نے اس کو اس حدتک نہیں پھیلنے دینا جس سے ہمیں لوگوں کے روزگار کو نقصان پہنچانا پڑے، اگر فوری اقدامات نہ کیے تو زیادہ بندشیں لگانی پڑ سکتی ہیں۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وبا کو دیکھتے ہوئے پابندیوں کا فیصلہ کیا گیاہے اور ایک ہفتے کے بعد دوبارہ جائزہ لیا گیا ، جو اقدامات کیے گئے تھے ان پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا ، خصوصی آڈٹ کروایا گیا جس میں یہ سامنے آیاہے کہ فیصلوں پر درست انداز میں عملدرآمد نہیں ہو رہاہے ، شائدہ ہمارے لوگوں کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ ہم کتنی خطرناک صورتحال کا سامنا کررہے ہیں کورونا کی تیسری لہر میں نئے ویرنٹس آئے ہیں ، یہ زیادہ مہلک ہے ، یہ پھیلاﺅ میں تیزی کی وجہ بنی ہے ، ہم نے جائزہ لیا کہ اس وقت ہمارے خطے میں کیا ہورہاہے ،یہ ویرنٹ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پورے خطے میں پھیلتا ہوا دکھائی دے رہاہے ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں یومیہ کیسز 10 ہزار سے کم ہو گئے تھے لیکن ایک دن پہلے تک یہ 47 ہزار سے زائد ہو گئے ہیں ، بنگلہ دیش میں اضافہ چار گنا سے زیادہ ہواہے ،یہ خطرہ اس لیول تک پہنچ گیاہے ، ہمارے ہسپتال اس کے اندرکورونا کے مریضوں کی تعداد کو دیکھا جاتاہے اور ان میں اضافے پر نظر رکھی جاتی ہے، ہم نے دیکھا کہ جب پہلی لہر آئی تو اس کے عروج پر ہسپتالوں میں تشویشناک حالت میں 3300 کیسز تھے ، دوسری لہر میں 2511 لوگ تشویشناک حالت میں تھے اور دوسری لہر میں 800 کیسز میں کمی ہوئی ہے لیکن اب تیسری لہر میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے اور اب تک تشویشناک حالت میں ہسپتالوں میں موجود مریضوں کی تعداد 2842 تک پہنچ گئی ہے ۔

اسد عمر کا کہناتھا کہ گزشتہ12 دونوںتشویشناک حالت میں مبتلا مریضوں کی تعداد ایک ہزار مریضوں کااضافہ ہواہے ، اگر اسی رفتار سے اضافہ ہو تا رہا تو ہم اگلے ہفتے میں اس لیول سے اوپر نکل جائیں گے جو وبا کی پہلی لہر میں تھا ۔ ہم کپسیٹی کے قریب پہنچ رہے ہیں جس کے باعث ہسپتالوں میں لوگوں کو بیڈ نہیں مل رہا، یہ بتانے کا مقصد خوف پیدا نہیں کرنا ہے ۔ جب پاکستانی فیصلہ کر لیں کہ ہم نے اس حکمت عملی پر عمل کرناہے جس سے مرض پر قابو پایا جا سکے تو ہم کامیاب ہو تے ہیں ۔

شہری انتظامیہ نے بہت اچھا کر دار ادا کیاہے ، زیادہ پھیلاﺅ ، پنجاب ، خیبر ، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں دیکھنے میں آ رہاہے ، یہاں پر برطانیہ کا ویرنٹ زیاد ہ پھیل گیاہے ، اپوزیشن اور حکومتی لیڈر شپ سے بات ہوئی ہے ، یہ لیڈر شپ کا وقت ہے ، ہم نے اس وبا کا مقابلہ کرناہے اور اپنے لوگوں کا دفاع کرناہے ، ہم نے اس کو اس حدتک نہیں پھیلنے دینا جس سے ہمیں لوگوں کے روزگار کو نقصان پہنچانا پڑے ، اگر فوری اقدامات نہ کیے تو زیادہ بندشیں لگانی پڑ سکتی ہیں ۔اگر ہماری سیاسی لیڈر شپ آ گے آئے گی ، میڈیا اور مذہبی رہنما کر دار ادا کریں تو ہم اقداما ت کرنے میں کامیاب ہوں گے جس سے مرض پر قابو پایا جا سکے گا ، اپنے گھر والوں اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں ، ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے تو اللہ کرم کرے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں