مہنگائی، ملکی حالات اور صحت مند زندگی!

تحریر:آصف شہزاد
ملک میں ہوش ربا مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے، صورت حال بجائے بہتر ہونے کے روز بروز بگڑتی ہی جا رہی ہے۔اشیائے صرف کی قیمتوں کو تو جیسے پر لگ گئے ہوں، سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ مہنگائی آخر کہاں جا کر رکے گی۔ رہی سہی کسر کورونا نے پوری کر دی ہے۔ عام آدمی کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ق)کے قائدین چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الٰہی اور چودھری مونس الٰہی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کے ترقیاتی بجٹ کو مہنگائی کے خاتمے کے لئے استعمال کریں، بلکہ ملک کے تمام وسائل عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کئے جائیں تاکہ عام آدمی کے حالات زندگی بہتر ہو سکے اور وہ سکون کا سانس لے سکیں۔ ملکی حالات کے پیش نظر ضرورت اِس امر کی ہے کہ قوم سادگی کو ابنائے، مرغن غذائیں ویسے بھی انسانی زندگی لے لیے زہر قاتل ہیں.

انسان بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ویسے بھی بہت سی بیماریوں سے دو چار ہونے لگتا ہے۔ لہٰذا اسے اپنی خوراک اور رہن سہن کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے، انسانی زندگی جتنی سادہ ہو گی اتنی ہی وہ پرسکون اور صحت مند زندگی گزارے گا۔ خوراک سادہ ہو گی تو انسان مختلف قسم کی بیماریوں سے محفوظ رہے گا۔ بڑی عمر کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنی صحت کا خاص طور پر خیال رکھیں، کیونکہ اس وقت ادویات کی قیمتیں بھی آسان سے باتیں کر رہی ہیں۔ لہٰذا احتیاط بالخصوص مہنگائی میں بہت بہتر ہی نہیں،بلکہ فائدہ مند بھی ہے۔اگر آپ کی عمر پینتالیس، پچاسی یا اس سے اوپر کی ہے تو درج ذیل باتوں کا خاص طور پر خیال رکھیں۔

پہلی بات تو یہ کہ حتی المقدور کوشش کریں کہ آپ کا فشار خون (بلڈ پریشر)اور خون میں شکر کا تناسب صحت کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ دوسرے یہ کہ سات چیزوں کا استعمال کم سے کم کریں۔

1: نمک 2: چینی 3: گوشت یا دیگر فریج میں محفوظ کردہ غذائیں خاص طور پر بیکری آئٹم 4: سرخ گوشت 5: دودھ اور اس کی بالائی وغیرہ 6: نشاستہ دار غذائیں 7:کاربوہائیڈرٹیڈگیسوں والے مشروبات وغیرہ۔

اپنے کھانوں میں تین چیزوں کا استعمال بڑھا دیں 1: سبزیاں 2: پھل 3: خشک میوہ جات وغیرہ

اپنی عمر،اور ماضی کی تلخ حقیقتوں کے متعلق بالکل نہ سوچیں،بلکہ انہیں اس طرح فراموش کر دیں جیسے یہ آپ کی زندگی کا کبھی حصہ ہی نہیں رہے۔اس کے برعکس اپنی زندگی کی خوشگوار یادوں، دوست احباب سے تعلقات، خاندان کے عزت و وقار، مثبت سوچ اور مشاغل وغیرہ میں اپنا زیادہ وقت گزاریں۔

اپنی صحت کی حفاظت کے لئے خاص طور پر روزے کا اہتمام کریں، ہنسی مذاق اور مسکراہٹ والی گفتگو،سیر وسیاحت،جسمانی ورزش اور وزن کم کرنے کے لئے مناسب خوراک۔صبح کی سیر، جسمانی مشقت اور مطالعہ، پیاس نہ بھی لگے ہر پندرہ بیس منٹ بعد چند گھونٹ پانی ضرور پیئں، نیند کے لئے جماہیوں کا انتظار نہ کریں، جسم کو تھکنے نہ دیں،جسم کو زیادہ سے زیادہ آرام پہنچائیں،اپنے میڈیکل ٹیسٹ باقاعدگی سے کروائیں اور سب سے اہم بات یہ کہ اللہ تبارک و تعالی کے ساتھ اپنا روحانی تعلق مضبوط بنائیں،اس کے لئے تلاوت کا اہتمام کریں، پانچ وقت نماز کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ تہجد، اشراق اور نوافل پڑھیں۔دُعاؤں اور مناجات کی کثرت کریں، توبہ واستغفارکے ساتھ ساتھ درود شریف کثرت سے پڑھیں، صدقہ و خیرات کریں۔ صحت معمولی خراب بھی ہو تو کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں، ڈاکٹر کی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔اس طرح آپ صحت مند، خوشگوار اور بھر پور زندگی بسر کر سکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں