قیام پاکستان کے مقاصد پیش نظر رکھیں

تحریر:آصف شہزاد
1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعدمسلمان زیر عتاب آگئے تھے۔ سرسید احمد خان نے مسلمانوں پر انڈین نیشنل کانگریس کے مذموم ارادوں کو آشکار کر دیا تھا انڈین نیشنل کانگریس ایسی سیاسی جماعت تھی جسے انگریزوں نے بنایا تھا جس میں زیادہ تر ہندو ہی تھے سرسید نے مسلمانوں کو اس جماعت میں شامل ہونے سے روک بھی دیا تھا سرسید نے ہی مسلمانوں کو ایک قوم گردانا تھا انہوں نے مسلمانوں کے نظریات کو اجاگر کرکے ان میں وہ شعور بیدار کر دیا کہ مسلمان اپنے نظریات کی آبیاری کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے اور سر سید دوقومی نظرئیے کے بانی کہلائے نواب وقار الملک کی صدارت میں 1906ء میں مسلمان ڈھاکہ میں جمع ہوئے نواب سلیم اللہ خان کی تحریک پر مسلم لیگ قائم ہوئی انگریزوں کی غلامی سے آزادی کا جنون تحریک کو بام عروج تک پہنچا گیا کانگریس چاہتی تھی ہندوستان انگریزوں سے آزاد ہوجائے لیکن اقتدار ان کے ہاتھ میں آجائے ہندووں کا فلسفہ آزادی مسلمانوں کے فلسفہ آزادی سے یکسر مختلف تھا اور مسلمان جو انگریزوں اور ہنددوں کے زخم خوردہ تھے وہ انگریز کے بعد ہندووں کی غلامی کو کیسے قبول کرتے علامہ اقبال ؒ نے 1930ء میں الہ آبادمیں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کی تجویز دی۔

برصغیر کے سات صوبوں میں 1937ء اور1939ء کے درمیان کانگرس جیت گئی تو مسلمان جو پہلے سے ہندووں کے ستائے ہوئے تھے اور بھی انکے نشانے پر آگئے مسلمانوں کو قائداعظمؒ کی صورت میں ایک مسیحا مل چکا تھا قائداعظمؒ مارچ 1940ء کو فرنٹئیر میل کے ذریعے لاہور اسٹیشن پہنچے جہاں ہر طرف ہجومِ عاشقاں تھا اس موقع پر قائداعظم ؒ نے 100منٹ کا ایسا خطاب کیا کہ لوگوں پر وجد سا طاری ہوگیا ہر ایک کے دل میں جذبوں کا طوفان تھا اور آنکھوں میں آزادی کی بجلیاں چمک رہی تھیں سانسوں میں ہندووں کی زیادتیوں کا الاؤ دہک رہا تھا قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زیر صدارت 23 مارچ 1940 کو مسلم لیگ کا تاریخی سالانہ اجلاس منٹو پارک لاہور میں ہوا مولوی فضل الحق نے قرارداد پیش کی۔ قرارداد کا اردو ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے کیا۔ اس کی تائید میں خان اورنگ زیب خان، حاجی عبداللہ ہارون، بیگم مولانا محمد علی جوہر، آئی آئی چندریگر، مولانا عبدالحامد بدایونی اور دوسرے مسلم اکابرین نے تقاریر کیں۔ تقاریر کے بعد مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کی قرارداد منظور کرلی گئی جسے قرارداد لاہور کا نام دیا گیا۔ بیگم محمد علی جوہر نے تقریر میں قرارداد کوپہلی بارقرارداد پاکستان کہا۔قرارداد پاکستان کے 7 برس بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کرہ ارض پر وجود میں آگیا۔

زخموں سے چور لٹے ہوئے مسلمان اپنا سب کچھ گنوا کر ارض پاک پہنچے تو سجدہ شکر ادا کیا۔ میں سوچتا ہوں ہم نے کامیابیوں کی اس عظیم روایت کو برقرار رکھنا تھا پاکستان کو قائداعظم ؒ کے فرمودات کے مطابق ڈھالنا تھا اسے عظیم اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا پاکستان عشاق رسولﷺ کا مسکن ہے قائد اعظم ؒ نے فرمایا تھا پاکستان ہماری منزل نہیں بلکہ زاد راہ اور تجربہ گاہ ہے جہاں اسلامی نظام قائم کرکے دنیا میں اسلام کا پرچم بلند کرنا ہے۔ پاکستان تو ایک روشنی ہے جس کا نور دنیا کی ظلمتوں میں اجالا کئے ہوئے ہے پاکستان ایک اسلامی قلعہ ہے جس کی بنیاوں میں شہیدوں کا لہو ہے اَن گنت آرزوئیں ہیں لاتعداد امیدیں ہیں 23مارچ 1940ء کو ہم نے ایک سمت کا تعین کیا تھا ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم انہی راستوں پر ہیں کہ راہوں سے ہٹ گئے اور منزل کھو دی ہے ہم قائد کے فرمودات پہ عمل پیرا ہیں کہ ان فرمودات کو فراموش کر دیاہے ہم نے پاکستان کو مضبوط سے مضبوط بنانا تھا قانون کی پاسداری کرنی تھی عوام کی حکمرانی کو یقینی بنانا تھا

اسلامی تعلیمات کو عام کرنا تھا ایک دوسر ے کے دکھ درد کا مداوا کرنا تھا زخموں پر مرہم رکھنا تھا لیکن ہوا کیا ہم نے ایک دوسرے کو اور بھی زیادہ گھاؤ دئیے ایک دوسرے کو دکھ درد سے نوازا لوٹ مار کی ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا چاہا مشرقی اقدار سے رو گردانی کرکے مغرب کی ہلاکت انگیز تہذیب کی تقلید کی۔ اسلامی تعلیمات سے انحراف کیا قوانین کی دھجیاں اڑا دی ہیں تو ایسے میں قائد کے پاکستان کا خواب تو دھندلا کر رہ جائے گا ہمیں قیام پاکستان کے مقاصد کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے تبھی پاکستان حقیقی معنوں میں قائد کا پاکستان ہو گا اور تب ہی پاکستان ایک مستحکم پاکستان ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں