بد امنی پر بھی وزیر اعظم کو ایکشن لینا چاہیے

تحریر:آصف شہزاد
اگر آپ اخبار پڑھنے اور نیوز چینل دیکھنے کے شوقین ہیں تو آپ کو روزانہ بہت ساری افسوس ناک خبریں پڑھنے اور دیکھنے کو ملتی ہیں جو آپ کی پریشانی میں اضافہ کرتی ہیں، بظاہر ایسے دکھائی دیتا ہے کہ پنجاب میں ڈاکوؤں نے اودہم مچارکھا ہے، دو چار افراد کا ڈکیتی کے دوران قتل اور سیکڑوں وارداتیں پنجاب میں روزانہ معمول کی کارروائی ہے، سب سے زیادہ اور تکلیف دہ امریہ ہے کہ پولیس ان سنگین واقعات کی پردہ پوشی کرتی ہے اور مقدمات درج نہیں کرتی جس کا فائدہ ڈاکوؤں کو ملتا ہے اور وہ پکڑے جانے کی صورت میں عدم ثبوتوں کی بنا پر سزاؤں سے بچ نکلتے ہیں، گوجرانوالہ شہر جو کہ میرا آبائی علاقہ بھی ہے وہاں کی حالت زار بیان کرتا ہوں،تاکہ قارئین اور عوام کو یہ اندازہ ہوکہ گوجرانوالہ کے عوام دو ٹانگوں کے درندوں کے ساتھ کس طرح کی محفوظ زندگی گزار رہے ہیں گوجرانوالہ آبادی کے لحاظ سے ملک کا پانچوں بڑا،اور اسے پہلوانوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔کراچی اور فیصل آباد کے بعد پاکستان کا تیسرا بڑا صنعتی شہر اور اس کا پاکستان کی مجموعی جی ڈی پی میں حصہ 5 فیصد ہے۔

گوجرانوالہ میں جرائم کی شرح کے جو اعدادوشمار سامنے آئے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں،رواں سال کے آغاز میں ہی مجموعی طور پر چوری، ڈکیتی، قتل، اقدام قتل سرقہ بالجبر، زنا، موٹر سائیکل اور گاڑی چوری کے 500 1کے قریب واقعات رپورٹ ہوئے مگر زیادہ تر واقعات کے پولیس نے مقدمات درج نہیں کیے۔ ایسے دکھائی دیتا ہے کہ پہلوانوں کا شہر اسٹریٹ کرمنلز کے لیے جنت بنا ہوا ہے جرائم پیشہ افراد نے لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے، شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں روزانہ 3 سے زائد بچے جنسی استحصال کا نشانہ بن رہے ہیں۔آئے روز پوش اور گنجان آباد محلوں، اہم تجارتی مراکز میں ڈاکہ زنی، دن دیہاڑے گن پوائنٹ پر لوٹ مار کی دلیرانہ وارداتوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔مقدمات کے اندراج کے لیے متاثرین کوجس قدر زلیل و خوارہونا پڑتا ہے وہ پولیس رویوں سے تنگ آکردرخواستوں کی پیروی کر نا ہی چھوڑ جاتے ہیں۔12 مارچ کو میرے ایک قریبی رشتے دار اپنی فیملی اور امریکہ پلٹ ہمشیرہ کے ہمراہ شاپنگ کے لیے گوجرانوالہ پہنچتے ہیں، موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں کا ایک گروہ انہیں دن دیہاڑے اسلحہ کے زور پر روک کر قتل کرنے کی دھمکی دیکرملکی،غیر ملکی کرنسی،طلائی زیورات اور دیگر 10لاکھ سے زائد مالیت کا سامان لوٹ لیتاہے اور ڈاکو ہاتھ میں اسلحہ لہراتے ہوئے فرار ہوجاتے ہیں۔

واردات کی اطلاع او درخواست پولیس کو دی جاتی ہے، مقدمے کے اندراج کے لیے متاثرین فیملی کے ہمراہ کئی روز تک تھانے کے چکر لگاتے ہیں۔ بالآخر میرے ایک اعلی آفیسر سے رابطہ کرنے کے بعد مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ ڈاکوؤں کی کیمروں میں تصاویر محفوظ ہونے کے باوجود پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکاری تھی، جہاں ایک پوش علاقے کی صورتحال ایسی ہو، وہاں دور دراز علاقوں کی صورت حال کیا ہوگی اس کا اندازہ آپ خود ہی بخوبی لگا سکتے ہیں،ایک پولیس آفیسر نے اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ کچھ نہ پوچھیں دیہات، قصبوں اور دور دراز علاقوں میں چوروں اور لٹیروں کا بسیرا ہے ہر طرف خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ اوباش نوجوان اسلحہ لیے دن بھر بازاروں گلیوں میں گھومتے رہتے ہیں جو موقع ملتے ہی واردات کر ڈالتے ہیں، اس قسم کی سیکڑوں وارداتیں ریکارڈ پر نہیں ہیں۔ منشیات کھلے عام فروخت ہورہی ہے بلکہ متعدد علاقے پولیس کے لیے نوگوایریا کی شکل اختیار کر چکے ہیں پولیس روایتی طور پر منشیات کے ڈیلروں کے بجائے نشہ کے عادی افراد کو گرفتار کر کے خانہ پوری مکمل کر لیتی ہے۔ معاشرے میں امن و امان برقرار رکھنا پولیس کے بنیادی فرائض میں شامل ہے لیکن یہاں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پولیس افسران اپنی ذمے داری سے غفلت کے مرتکب ہورہے ہیں یہی لاپروائی جرائم میں اضافے کا سبب ہے۔

سی پی او، وقاص نزیر،اشفاق احمد خان،ڈاکٹر معین مسعود،گوہر مشتاق بھٹہ،رائے بابر سعیدکے دور میں گوجرانوالہ کے حالات ایسے نہیں تھے تھانوں میں ایماندار ایس ایچ اوز کی تعیناتی عمل میں لائی جاتی تھی اب شہر کی پولیس کو کمرشل کر دیا گیا ہے۔منشا ء گھمن، صفدر بھٹی، اکرم شہباز،قیصر عباس شاہ، محسن مجید جٹھول، جیسے ایس ایچ او تعینات کرکے شہر کی پولیس کا ستیا ناس کر دیا گیا ہے،لاہور میں بھی امن وامان کی صورتحال حوصلہ افزا ء نہیں ہے، ”فوٹو سیشن“پر جتنی توجہ دی جاتی ہے اگریہ توجہ کام پر دی جائے تو یقیناًحالات بہتر ہو سکتے ہیں۔،جو بھی آفیسرز”گڈ گورننس“ کا باعث نہیں بن سکتا اسے فارغ کرنا حکمرانوں کی مجبوری ہے ذوالفقار حمید اور عمر شیخ بھی اسی لیے فارغ ہوئے تھے کہ وہ پولسینگ پر کم اور ”فوٹو سیشن“ پر زیادہ توجہ دیتے تھے، موجودہ حکمرانوں کے دور میں غیر جانب دار تجزیے کے مطابق جتنا اچھا وقت سابق سی سی پی او ”بی اے ناصر“ گزار چکے ہیں بعد میں آنے والے کسی بھی پولیس آفیسر کو ابھی تک یہ اعزاز حاصل نہیں ہو سکا وہ صرف کام پر توجہ دیتے تھے سستی شہرت کے عادی نہیں تھے،

اگر معاملات میں بہتری نہ لائی گئی تو . . . پی سی بی میں گروپنگ کی تصدیق کرتے ہوئے سابق چیئرمین ذکاء اشرف برس پڑے
پولیس پر ان کا رعب اور دبدبہ ان سے کہیں زیادہ قائم،جبکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال بھی مکمل کنٹرول میں تھی،بی اے ناصر نے دونوں ڈی آئی جی صاحبان کو مکمل بااختیار اورآفیسرز بھی ان کا حد سے زیادہ احترام کرتے تھے جبکہ بعد میں آنے والے تمام آفیسرز سی سی پی او کے ساتھ ڈی آئی جی آپریشن اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن بھی خود بن بیٹھے جس سے حالات خراب سے مزید خراب ہوتے گئے۔یہ بھی خبر ہے کہ لاہور میں کچھ آفیسرز پی ٹی آئی کو ناکام کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں اور وہ اختیارات کا غلط استعمال کرکے لوٹ مار میں بھی مصروف دکھائی دیتے ہیں، سپاہی سے لے کر آئی جی پولیس تک سبھی کو اپنی نوکری کے لالے پڑے ہیں کسی کو”گڈ گورننس“ کا خیال نہیں، اداروں کی تباہی اور بربادی کا باعث بننے والے افسران کے خلاف وزیر اعظم پاکستان کوفوری سخت ایکشن لینا چاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں