جس میں ڈوبے تھے سمندر اور تھا

تحریر:آصف شہزاد
پی ٹی آئی کے حامیوں نے جہاں سکھ کا سانس لیا،وہاں پی ڈی ایم کے حامیوں کی مایوسی بھی دو دن سوگ کے بعد کم ہوگئی ہے۔ خاص طور پر جس طرح پیپلز پارٹی نے محتاط اور مولانا نے غصیلا رویہ اختیار کیا اس سے پی ڈی ایم سے توقعات باندھنے والوں کو اطمینان ہوا کہ ابھی سارے انڈے گندے نہیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آصف زرداری سے منسوب حکمت عملی سے پی ٹی آئی کے بعض عوامی حلقے بھی خوش نظر نہیں آرہے تھے اور اب جب سے مولانا نے بتایا کہ ان کا پیپلز پارٹی سے اور پیپلز پارٹی نے اپنی سی ای سی میں متوقع یوٹرن کے اشارے دیئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ میلہ پھر سے لگنے والا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پی ڈی ایم یہ میلہ ماہ رمضان کے آغاز سے قبل لگاتی ہے، بعد میں لگاتی ہے یا پھر عین درمیان سے اپنا مقدس مشن شروع کرتی ہے۔ اب تک کی تو سب سے بڑی سیاسی خبر یہ ہے کہ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ فوری طور پر منعقد نہیں ہو رہا۔ کم از کم دس جماعتوں کے کارکنوں نے تو سکھ کا سانس لیا ہوگا کہ چلو ماہ رمضان خیریت اور آرام سے گزرے گا، یہ الگ بات کہ ملک میں جاری مہنگائی تو کہتی ہے کہ کل کا ہوتا آج لانگ مارچ ہو اور حکومت کو چلتا کیا جائے۔

اس میں شک نہیں ہے کہ میڈیا کے بدلتے رجحانات نے ہماری سیاسی حرکیات کو تیز تر کردیا ہے، جھٹ پٹ خبر یعنی بریکنگ نیوز کے کلچر نے عوام میں کوئی بھی تاثر فوری قائم کرنے اور فوری زائل ہونے کے رجحان نے زور پکڑ لیا ہے۔ وہ زمانے گئے کہ عام عوام کو اپنے محبوب سیاستدانوں کا درشن اور انہیں براہ راست سننے کا موقع شاذونادر ہی ملا کرتا تھا۔ ان کے ارشادات عالیہ جاننے کے لئے اگلی صبح کے اخبار کا انتظار کرنا پڑتا تھا اور پھر ان ارشادات کو سمجھنے کے لئے مزید ایک روز درکار ہوتا تھا۔ اب تو سب کچھ بدل گیا ہے، معلومات کے تیز ترین سفر کی صلاحیت کے باعث عوام پل میں تولہ پل میں ماشا ہوتے رہتے ہیں اور بار بار کی شکست وریخت جہاں انہیں اعصابی طور پر کمزور کرتی ہے وہاں ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی جلا بخش رہی ہے اور امید ہے کہ اب سے دس برس بعد جو پود ملک کے نظم و نسق کو اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے ہوگی وہ بریکنگ نیوز کی تطہیر کرنے اور اسے سنجیدہ لینے یا نظر انداز کرنے کی صلاحیت سے معمور ہوگی۔ تب تک ہماری سیاست بھی اپنے آپ کو بدلے ہوئے رجحانات کے مطابق ڈھالنے میں کامیاب ہو چکی ہوگی۔

دو دن قبل انہی کالموں میں عرض کی تھی کہ شائد ایسا ہوسکتا ہے کہ جناب آصف زرداری نے ماہ رمضان اور اگلے بجٹ سے قبل پی ڈی ایم کی لانگ مارچ سے جان بچانے کے لئے ولن کا کردار ادا کیا ہو اور اب حالات وقرائن اور پی ڈی ایم قیادت کے بیانات بھی اس کی چغلی کھا رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی سی ای سی تک ہر شے موخر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ساری بساط کچھ اس شاطرانہ انداز میں بچھائی گئی ہے کہ کوئی بھی معترض نہیں ہے کہ پی ڈی ایم نے لانگ مارچ اور دھرنا کیونکر موخر کردیئے ہیں، کوئی بھی ایسا نہیں سوچ رہا کہ اگر دس میں نو جماعتیں لانگ مارچ کرتے ہوئے 31مارچ تک اسلام آباد پہنچ جاتیں اور دھرنا دے کر بیٹھ جاتیں تو پیپلز پارٹی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا کہ وہ بھی چاروناچار وہاں جا بیٹھے مگر لگتا ہے کہ ایک زرداری کے انکار نے تو پی ڈی ایم میں بہار کا سماں پیدا کردیا ہے اور ہرکوئی شکر ادا کر رہا ہے کہ اس قدر بھاری کشٹ کاٹنے سے جان بچ گئی ہے۔

اس وقت تک کی صورت حال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی پانی میں ڈبکی لگا کر منظر سے غائب ہو چکی ہے، کنارے پر کھڑی حکومت سمجھتی ہے کہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کو داغ مفارقت دے کر بھاگ چکی ہے جبکہ پی ڈی ایم والے یوں ظاہر کررہے ہیں جیسے انہیں علم ہے کہ پیپلز پارٹی پانی کے اندر کہاں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جب پیپلز پارٹی دوبارہ سے ابھرتی ہے تو کہاں جا نکلتی ہے، ایک شعر سنئے کہ
جس میں ڈوبے تھے سمندر اور تھا

جس پہ ابھرے ہیں کنارہ اور ہے

اگر واقعی ایسی صورت حال ہے تو پیپلز پارٹی کی واپسی کی راہیں کھلی ہوئی ہیں لیکن پانی میں اگر اس ڈبکی کے دوران نون لیگ یا مولانا جناب زرداری پر بیٹھ گئے ہیں تو ان کا دوبارہ ابھرنا مشکل دکھائی دیتا ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کے اس موقف پر اتفاق کرجائے گی کہ مرحلہ وار اسمبلیوں سے مستعفی ہوا جائے اور اس سے بڑھ کر یہ لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کی بجائے پی ٹی آئی کے ساتھ جا ملے گی اور ان ہاؤس چینج کا ڈول ڈال کر پی ٹی آئی کے بجائے اپنا وزیر اعظم لے آئے گی اور ایسا فوری طور پر ممکن نہ ہوا تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی پی ٹی آئی حکومت میں نائب وزارت عظمیٰ پر راضی ہو جائے۔ کچھ بھی ہو بہرحال ایک بات طے ہے کہ پی ڈی ایم کو دوبارہ سے ساری چال بنانا پڑ رہی ہے اور کم از کم چار اپریل تک کوئی انقلاب آنے کی توقع نہیں ہے۔ ایسے میں اگر نواز شریف وطن واپس لوٹ آئیں تو کیا کہنے کیونکہ جو سیاسی گرما گرمی ان کے واپس آنے سے پیدا ہو سکتی ہے وہ شہباز شریف کے جیل سے باہر آنے سے پیدا نہیں ہو سکتی جیسے حمزہ شہباز کے باہر آنے کے باوجود بھی نون لیگ کا ورکر مریم نواز کی جانب ہی دیکھ رہا ہے۔ خیر

ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا!

اپنا تبصرہ بھیجیں