بیماری اور اللہ کا ذکر

تحریر:آصف شہزاد
پاکستان میں ایک بار پھر کورونا کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہو گیا ہے اور حکومت نے پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دو ہفتوں کے لئے لاک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔سکولوں کو دو ہفتوں کے لئے بند کر دیا گیا ہے،جو پہلے ہی خدا خدا کر کے کھلے تھے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب طبقے پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے، کیونکہ فیکٹریاں، دکانیں اور دیگر کاروباری ادارے ایک مخصوص وقت میں بند ہونے سے غریب اور دیہاڑی دار طبقے کا نقصان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ جتنا زور وہ کورونا لاک ڈاؤن کرنے کے لئے لگا رہی ہے پولیس اہلکاروں کو جگہ جگہ تعینات کیا جاتا ہے اور مارکیٹوں میں پولیس کی کارروائیاں شروع ہوتی ہیں اگر یہی پولیس کورونا ایس او پیز پر عمل در آمد کرائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ اس میں عوام کو بھی تھوڑا خیال کرنا چاہئے، کیونکہ یہ ایسا موذی مرض ہے جس کا ابھی تک درست طریقے سے تدارک نہیں ہو سکااور احتیاط کے دامن کو تھامنا چاہئے۔انسان کو ہر وقت موت کے لئے تیار رہنا چاہئے، للہ تعالیٰ کی بابرکت ذات نے ہر جاندار کے لئے موت کا وقت اور جگہ متعین کردی ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کا کوئی بھی انکار نہیں ہے۔ اس معاملے میں مسلمان یا کافر کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ موت برحق ہے اور آنی ہی آنی ہے، جس طرح اگر کوئی خوشی ہے تو وہ بھی ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے۔

غم نے بھی گزر جانا ہے تو خوشی کا بھی وقت چلا جائے گا۔اگر صحت ہے تو اس نے سدا نہیں رہنا اگر بیماری ہے تو اس نے بھی ختم ہو جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمانے کے لئے زمین پر بیماری بھی اتارتا ہے تو بندوں کو نوازتا بھی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی انسان ایسا نہیں جو کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا نہ ہو،اگرچہ اس کی نوعیت الگ الگ ہوتی ہے۔بیماری کی حالت میں اگر کوئی مبتلا ہے تو یہ اللہ کی آزمائش ہے جو اللہ کی بابرکت ذات ا پنے طریقے سے کرتی ہے۔ کورونا کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت تباہ ہو چکی ہے اور یہ بیماری لوگوں کے پیارے ان سے چھین رہی ہے تو یقینا یہ ایک آزمائش ہے،جو اس آزمائش میں پورا ترے گا اور اللہ کی رضا میں راضی ہو گیا وہ کامیاب ہو گیا،جس نے اس بیماری کی وجہ سے اللہ سے دوری اختیار کر لی وہ ناکام گردانا جائے گا۔ بیماری ہو یاناکامی اس کے اسباب ہوتے ہیں اور اکثر وبیشتر اس کا علم ہوتاہے۔اللہ تعالی نے یہ جو نظام کائنات بنایا ہے اس میں سب کے لئے کھلی نشانیاں ہیں اور سب کے لئے برابر موقع ہیں اور سب کے لئے ایک جیسے اسباب ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ کوئی بیماری ہے تو وہ صرف کافروں کو متاثر کرے گی مسلمانوں کو وہ چھوئے گی بھی نہیں۔

اس طرح اگر دنیا کی نعمتیں ہیں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ ان نعمتوں کے حقدار صرف مسلمان ہیں اور کافر ان نعمتوں کو چھو بھی نہ سکیں گے، یعنی اللہ نے دنیا میں زندگی گزارنے کے اسباب بنا دیئے ہیں۔ ان اسباب کو استعمال کر کے یا ان اسباب کی وجہ سے مسلمان بھی اتنا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور کافر بھی اتنا ہی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ سب دنیاکے اسباب ہیں یہ نظام کائنات ہر ایک کے لئے یکساں ہے اور ہر چیز کا ایک سبب ہے۔اللہ نے دنیا بنائی ہے تو اسباب بھی بنائے تو بیماریاں بھی اتاریں تو ہر بیماری کا علاج بھی دیا تا کہ انسانوں کو دنیا میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے، یعنی دنیا میں ہر کوئی بیماری میں مبتلا ہوتا حادثات سے دوچار ہوتا ہے، ہر کسی کو پریشانی آتی ہے کوئی آفت ہے تو انسان اس آفت کا شکار بھی ہوتے ہیں اس میں کمی اور زیادتی احتیاط کرنے یانہ کرنے سے ہوتی ہے یا اسباب کو اختیار کرنے یانہ کرنے سے ہوتی ہے۔فرمان الٰہی ہے کہ ”پس جب ہماری سختی ان پر آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی،مگر ان کے دِل تو اور سخت ہو گئے“۔

اللہ کے نبی ؐنے بھی بیماریوں سے خاص طور پر موذی بیماری سے پناہ مانگی ہے تو ہمیں بھی اللہ کے نبی ؐ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے موذی بیماری سے پناہ مانگنی چاہئے اور وبائی امراض کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیں، کیونکہ یہ بیماری اللہ کی آزمائش ہے تو جو جتنے ظاہری اسباب پر عمل کرے گا وہ اتنا ہی اس بیماری سے دور رہے گا۔ حالات واقعات کا تقاضا یہ ہے کہ صبح وشام سات سات مرتبہ یہ دعا پرھنی چاہئے
بِسْمِ اللَّہِ الَّذِی لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْءٌ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیْمُ

”اللہ کے نام سے جس کا نام لے لیا جائے، تو زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی وہی سننے اور علم رکھنے والا ہے“۔

یہ دُعا پڑھنے سے انسان صبح وشام آنے والی آفتوں سے محفوظ رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات تمام مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی بھی کرونا کی آفت سے بچائے اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنائے۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں