یوسف رضا گیلانی کے نام پر مہر لگانے والے 7 سینیٹرز خود سامنے آگئے، مقصد کیا باور کروانا تھا؟ نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کردیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے مشترکہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کے نام ہر مہر لگانے والے سات سینیڑز خود پارٹی کے سامنے پیش ہوگئے ہیں اور پیپلزپارٹی کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو پیش گئی رپورٹ کے مطابق ارکان نے بتایا کہ اس عمل میں کوئی بدنیتی شامل نہیں تھی، وہ پارٹی کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ ان کا ووٹ یوسف رضا گیلانی کو ہی پڑا ہے تاہم ان ارکان کے نام صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق سات مسترد شدہ ووٹوں سے متعلق انتہائی باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ووٹنگ کا عمل شروع ہونے سے قبل ان سات ارکان نے الیکشن کےعملےسے ووٹنگ کا طریقہ پوچھا۔ جس پر الیکشن کمیشن کے عملے نے انہیں بتایا کہ ڈبہ میں نام پرمہرلگانی ہے ،ساتوں ارکان خود سامنے آئے ہیں اور انہوں نے بیان ریکارڈ کرایا ہے۔

حکومتی امیدوار صادق سنجرانی ایک بار پھر سینیٹ کے چیئرمین منتخب ہو گئے جبکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی ہارگئے، ٹوٹل8ووٹ مسترد ہوئے۔پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے گنتی مکمل ہونے کے بعد کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد ہوئے ہیں کیونکہ ان میں خانے کی جگہ یوسف رضا گیلانی کے نام پر مہر لگی ہوئی ہے جبکہ ایک بیلٹ پیپر پر دونوں امیدواروں کے حق میں ووٹ دیا گیا جس کے باعث اسے مسترد کیا گیا۔انہوں نے نتیجے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صادق سنجرانی نے 48 ووٹ حاصل کیے، یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے۔

یوسف رضا گیلانی کے پولنگ ایجنٹ فاروق ایچ نائیک نے مسترد ہونے والے 7 ووٹوں کو چیلنج کیا۔انہوں نے پریزائیڈنگ افسر کو مخاطب کرکے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ کمیٹی بنائیں تاہم آپ نے میری بات نہیں سنی، رولز میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ مہر کس جگہ لگائیں۔انہوں نے کہا کہ جن ووٹوں کی بات کر رہے ہیں ان میں مہر خانے کے اندر لگی ہوئی ہے باہر نہیں۔صادق سنجرانی کے پولنگ ایجنٹ محسن عزیز نے کہا کہ رولز میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ امیدوار کے نام کے اوپر مہر لگائی جائے، لکھا ہوا ہے نام کے سامنے خانے میں مہر لگائیں۔پریزائیڈنگ افسر نے دونوں طرف کا موقف سننے کے بعد ووٹ مسترد کردئیے اور اپوزیشن سے کہا کہ اگر آپ کو میرے فیصلے پر اعتراض ہے تو الیکشن کمیشن میں اسے چیلنج کردیں۔

بعد ازاں نومنتخب چیئرمین سینیٹ سے پریزائیڈنگ افسر نے حلف لیا۔سینیٹر صادق سنجرانی نے دوبارہ چیئرمین سینیٹ کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد نشست سنبھالتے ہوئے انہیں ووٹ دینے والے سینیٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام ایوان کا اور پی ٹی آئی کی قیادت اور خاص طور پر پرویز خٹک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ وہ عمران خان اور اپنی پارٹی کے سربراہ جام کمال خان کے بھی شکر گزار ہیں۔

صادق سنجرانی نے کہا کہ انہوں نے جس طرح 3 سال سے ایوان کو چلایا ہے وہ اس سلسلے کو جاری رکھیں گے اور سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔بعد ازاں صادق سنجرانی نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی نشست کے لیے انتخاب کا اعلان کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر قوانین کو دوہرایا اور سیکریٹری کو حکم دیا کہ وہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان کریں۔بعد ازاں چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی نشست کیلئے انتخاب کا اعلان کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر قوانین کو دوہرایا اور سیکریٹری کو حکام دیا کہ وہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان کریں۔ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لئے حکومت کے امیدوار مرزا محمد آفریدی اور پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار مولانا عبدالغفور حیدری میدان میں تھے۔

بعد ازاں گنتی کا عمل مکمل ہونے پر چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی نے نتائج کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی چیئر مین سینٹ کے انتخاب کیلئے کل 98ووٹ کاسٹ ہوئے اور کوئی ووٹ مسترد نہیں ہوا،حکومتی امیدوار مرزا محمد آفریدی نے 54ووٹ لیکر کامیابی حاصل کرلی جبکہ پی ڈی ایم کے امیدوار مولانا عبد الغفوری حیدری 44ووحاصل کر سکے بعد ازاں چیئر مین سینٹ نے ڈپٹی چیئر مین یار محمد آفریدی سے حلف لیا اور ان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ یاد رہے کہ سینیٹرز کی تعداد 98 ہے کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے اسحق ڈار نے حلف نہیں اٹھایا، جماعت اسلامی کے سینیٹرمشتاق احمد نے انتخاب میں حصہ نہ لینے کا اعلان کررکھا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں