فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار کرنیوالوں کی بھی شامت آگئی

کراچی .فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار کرنیوالوں کی بھی شامت آگئی ، حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ا س شعبے میں خدمات فراہم کرنیوالوں کو دی گئی انکم ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ ایکسپریس کے مطابق ایف بی آر حکام نے بھی اعتراف کیا کہ بیرون ملک مصنوعات اور خدمات فروخت کرنے والے ٹیکس ادا نہیں کررہے ہیں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کریک ڈوان کا فیصلہ کرلیاہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف بی آر کے ذرائع نے بتایا کہ اس ضمن میں ایف بی آر کمشنر آف شور ٹیکس اور ڈائریکٹرجنرل انٹرنیشنل ٹیکس نے مشترکہ طورپر تحقیقات کا آغاز کردیا ، امریکی کمپنی Payoneer نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر ادائیگیاں کی ہیں اور ابتدائی تحقیقات کے دوران اس امر کی نشاندہی ہوئی کہ مذکورہ امریکی کمپنی نے 60 ارب روپے75ہزار سے زائد افراد کو ادا کیے ہیں اور ان میں سے 45ہزار سے زائد افراد پر ٹیکس عائد ہوتا ہے،رقم وصول کرنیوالوں میں12 ہزار سے زائد نان فائلرز ہیں۔

حکام نے بتایاہے کہ مذکورہ امریکی کمپنی میں اکاونٹ بنانے کے بعد مقامی موبائل بینک یا کمرشل بینک اکاو نٹ میں رقم منتقل ہورہی ہے اور ان معلومات کی بنیاد پرایف بی آر نے مذکورہ امریکی کمپنی کی رقم منتقل کرنے والے 27 بینکوں کو بھی تحقیقات میں شامل کرلیا ہے اور ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔

پروپاکستانی کے مطابق حکومت نے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2021ءمیں انفارمیشن ٹیکنالوجی(آئی ٹی ) کے شعبے میں خدمات فراہم کرنیوالوں کیلئے انکم ٹیکس کی چھوٹ ختم کردی ہے تاہم بل کے ڈرافٹ میں کہاگیا ہے کہ آئی ٹی سروسز اور آئی ٹی سے متعلقہ سروسز فراہم کرنیوالوں کو انکم ٹیکس ریٹرن جمع کراتے وقت 100فیصد ٹیکس کریڈٹ دیا جائے گا۔

جن شعبوں میں ٹیکس کا 100فیصد کریڈٹ ملے گا، ان میں سافٹ ویئرڈیویلپمنٹ، سافٹ ویئرمینٹیننس، سسٹم اینٹیگریشن، ویب ڈیزائننگ، ویب ڈیویلپمنٹ، ویب ہوسٹنگ ، نیٹ ورک ڈیزائن، کال سنٹر، ریموٹ مانیٹرنگ، گرافکس ڈیزائن، اکاﺅنٹنگ سروسز، میڈیکل ٹرانسکرپشن، ایچ آر سروسز، ٹیلی میڈیسن سنٹر، ڈیٹا اینٹری آپریشنز، مقامی سطح پر تیار ہونیوالے ٹیلی وژن پروگرام اور انشورنس کلیم شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں