عورت مارچ۔۔کیاصحیح،کیاغلط؟

تحریر:آصف شہزاد
یہ بلاگ اگرآٹھ مارچ کولکھاجاتاتوشایداس پرویوز زیادہ آتے مگرمجھے ویوزکی کبھی فکر نہیں رہی،فکر صرف اس بات کی ہے کہ لکھتے وقت،بولتے وقت اور کچھ کرتے وقت ان سب باتوں کابھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے جس سے کسی بھی طرح ہماری زندگیوں یامعاشرے پرکسی بھی طرح اثر پڑسکتاہے۔۔یہ سطورلکھتے وقت مجھے یہ بھی ادراک ہے کہ میری سوچ سے کئی لوگوں کو اختلاف ہوسکتاہے مگریہ بھی علم ہے کہ مخالفین سے حامیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوگی۔

عورت مارچ،،جی ہاں۔۔۔یہ دن گزرنے کے بعد ہی لکھناضروری سمجھاہے کیوں کہ جب تک آپ دیکھ نہیں لیتے تب تک اس پرقیاس آرائی سے بہترہے کہ آپ وہ دیکھ لیں جس پر آپ لب کشائی یا قلم اٹھاناچاہتے ہیں۔

سب سے پہلے تو میں ان خواتین کو سلام پیش کرتاہوں جواپنے مقام کو سمجھتی ہیں،باوقارہیں،باحیاہیں،اپنی اوراپنے والدین کی عزت کاخیال رکھنے والی ہیں،اسلام نے انہیں جو مقام عطاکیاہے،اس پر خوش ہٰیں اور اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزار رہی ہیں کیوں کہ وہ جانتی ہیں کہ اسلام نے عورت کے حقوق کبھی سلب کرنے کی بات نہیں کی بلکہ دورجاہلیت میں جوعورت کی تذلیل کی جاتی تھی،اسے ختم کرکے اسے ایک باعزت مقام دیا اور مردوں کو بھی حکم دیاہے کہ اس کا خیال رکھیں،یہی وجہ ہے کہ آج معاشرے میں کتنی ہی ایسی خواتین ہیں جو ان اصولوں کے مطابق مردوں کے شانہ بشانہ کام کررہی ہیں،وہ گھر کےکام بھی کرلیتی ہیں،وہ ملازمت کرتی ہیں،کاروبارکرتی ہیں،سیاست کرتی ہیں،وہ بازار میں اپنی مرضی سے جاکر خریداری کرتی ہیں،وہ گاڑی چلاتی ہیں،وہ موٹرسائیکل سے لے کر جہازتک اڑا لیتی ہیں،وہ سب کچھ جو مرد کررہاہے،جو وہ کرسکتی ہیں وہ کرتی ہیں مگراپنی عزت کا خیال رکھتے ہوئے۔

دوسرے نمبرپرمیں شدیدالفاظ میں مزمت کروں گاان واقعات کی جوخواتین کیساتھ پیش آتے ہیں،جہاں خواتین کی عزت پامال کی جاتی ہے،ان کے حقوق سلب کیے جاتے ہیں،انہیں ظلم وبربریت کانشانہ بنایاجاتاہے،تیزاب گردی ،غیرت کے نام پرقتل،شادی میں زبردستی کے فیصلے،تعلیم اور وارثت سے محرومی،شوہرسمیت دیگراہل خانہ کے مظالم سمیت کتنے ہی ایسے اعمال ہیں جن کے ذریعے بنت حوا کو ظلم کانشانہ بنایاجاتاہے،ایسے اعمال کی اجازت نہ تو کسی بھی طرح قانون دیتاہے اور نہ اسلام میں اس کی گنجائش ہے۔لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ایسے اعمال معاشرے کی مجموعی سوچ نہیں بلکہ یہ افراد اورطبقات کی انفرادی سوچ اور اصولوں کے نتائج ہیں۔ہم اگر تعلیم سے محرومی کی ہی بات کرلیں تو اس کے پیچھے زیادہ تر یہ سوچ دیکھنے میں آئی ہے کہ والدین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنی بیٹی کویونیورسٹی میں بھیج دیاتوشاید وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں ان سے صلاح مشورہ نہیں کرے گی بلکہ ممکن ہے کہ وہ شادی کے لیے بھی کسی مرد کا انتخاب اپنی مرضی سے کرلے گی۔یہاں والدین کا یہ ڈر ختم کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر بیٹی تعلیم یافتہ ہوگی تو آنے والی نسل تعلیم یافتہ ہوگی،یہ بھی قوی امید ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا اہم فیصلہ آپ سے بہترکرلے،زندگی اس کی ہے،اگر اس نے یہ فیصلہ اپنی مرضی سے کرلیاتواس کا گناہ آپ پر کیسے ہوسکتاہے،آپ کا کام اچھی تربیت کرناہے،آپ اس کی تربیت ہی اس انداز میں کریں کہ وہ ایسا فیصلہ کرنے سے پہلے اس بات کو ملحوظ خاطر رکھے کہ یہاں میری اور میرے والدین کی بھی عزت ہواورمیرامستقبل بھی محفوظ ہو۔لہذا اس ڈر سے بیٹی کو اعلیٰ تعلیم کے حق سے محروم رکھنا سمجھداری نہیں بلکہ جہالت ہے۔

کئی ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ بیٹی نے صرف اس خواہش کا اظہارکیاکہ فلاں لڑکے سے شادی کرنی ہے،یا پھر اس لڑکے سے شادی نہیں کرنی تو اسے موت کے گھاٹ اتار دیاجاتاہے،یہ ظلم کرنے والوں کو ذرا یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جب آپ کا بیٹا یہی خواہش ظاہرکرتاہے کہ فلاں لڑکی سے شادی کرنی ہے تو پھر کیا اسے بھی قتل کردیں گے؟۔۔جب بیٹے کی خواہش کااحترام کیاجاتاہے تو پھر بیٹی کی خواہش کیوں عزت کی پامال کی وجہ نظرآتی ہے؟۔۔ایسی سوچ رکھنے والوں میں شعور بیدارکرنے کی ضرورت ہے۔
جب ہم وارثت کی بات کرتے ہیں تو یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ ایک ہی والدین کی اولادہونے کے باوجود جائیداد کاوارث بیٹے کو سمجھا جاتاہے اور بیٹی کو اس کا حصہ بھی نہیں دیاجاتا،صرف چندچارپائیاں،کچھ کپڑے،کچھ بستر اور ضرورت کے برتن دے کراسے پرائے گھر رخصت کردیاجاتاہے اور ساتھ یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ بیٹی اب اس گھرسے تمہارا جنازہ ہی اٹھے،واپس نہیں آنا،،یعنی آپ حق سے محروم کرکے اس کے لیے میکے گھر کے دروازے بھی بندکردیتے ہیں،،یہ ظلم کی انتہاہے۔اسے وراثت میں حصہ بھی ملناچاہیے ، والدین اور بھائیوں کے گھر کے دروازے بھی اس کے لیے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔

سارے مظالم اپنی جگہ،ساری حق تلفیاں اپنی جگہ مگر حقوق نسواں کے نام پربعض جگہوں پر آٹھ مارچ کو جو بعض عورتیں ہی عورتوں کی تذلیل کا سبب بنتی ہیں کیاانہیں مناسب عمل کہاجاسکتاہے؟مندرجہ بالا مظالم کے خاتمے اور عورت کو اس کے جائزحقوق کی فراہمی کے لیے آوازبلندکرنا،تقریبات منعقدکرنا،واک کااہتمام کرنا،میڈیا پرآوازبلندکرنا اور ہر وہ کاوش جس سے معاشرے کی پسی ہوئی عورتوں کی آوازبااختیار لوگوں تک پہنچے،کرنے میں کوئی ہرج نہیں،اس تحریک میں عورتوں کیساتھ مجھ سمیت لاکھوں مرد ساتھ کھڑے ہیں مگر نیم برہنہ حالت میں ڈانس کرتی خواتین کا ساتھ دینے کی بجائے ان کے لیے دعا کی جائے تو زیادہ بہترہے۔میری تمام بہنوں اور بیٹیوں سے گزارش ہے کہ اسلام کو پڑھیں اگر اس کے دئیے گئے مقام اورحقوق سے آپ مطمئن نہ ہوں تو پھر کہنا،،سنی سنائی باتوں پر نہ جائیں،اپنی آنکھوں سے قرآن و حدیث کامطالعہ کریں۔عورت مارچ ضرورکریں مگرعورت کے مقام کو بھی سمجھیں اور پھر صحیح اور غلط کا فیصلہ آپ خود کریں،اگرآپ کی زندگیوں پر آپ کے اہل خانہ کو حق نہیں تو پھربرہنہ ناچتی ان خواتین کو آپ کیسے حق دے سکتی ہیں؟

مناظرعلی مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے وابستہ رہ چکے ہیں اورملک کی بڑی ویب سائٹس پران کے بلاگ شائع ہوتےرہتے ہیں،،سماجی مسائل کاحل ان کا پسندیدہ موضوع ہے،ڈیلی پاکستان کے لیے مستقل لکھتے ہیں۔ان سے اس فیس بک آئی ڈی پر رابطہ کیاجاسکتاہے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں