آج سینیٹ کا معرکہ، سب نظریں اسلام آباد پر

تحریر: آصف شہزاد
آج سینیٹ کا معرکہ ہے۔ یہ معرکہ کون سر کرتا ہے،شام تک معلوم ہو جائے گا۔ اس بار سینیٹ انتخابات نے جو ہلچل مچائی ہے، شاید ہی پہلے کبھی دیکھی گئی ہو، پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان میں سینیٹ کا ادارہ بھی موجود ہے۔ حکومت اور متحدہ اپوزیشن نے سینیٹ انتخابات کو اپنے لئے ایسی ہار جیت کا مسئلہ بنا لیا ہے،جو تخت یا تختہ کا فیصلہ کرتی ہے۔ آصف علی زرداری بیماری کے باوجود اسلام آباد آ کر بیٹھ گئے اور وزیراعظم عمران خان نے ارکانِ اسمبلی سے ملاقاتوں کے لئے پارلیمینٹ میں ڈیرے ڈال دیئے۔پہلی مرتبہ یہ بھی دیکھا گیا کہ لیڈرانِ کرام اپنی ہی جماعتوں کے ارکانِ اسمبلی کا منت ترلہ کر رہے ہیں۔خاص طور پر حکومتی جماعت کے ارکان کی تو گویا لاٹری نکل آئی ہو۔ ان کے مطالبات مانے جا رہے ہیں اور یقین دلایا جا رہا ہے کہ حکومت اُن کا پَل پَل خیال رکھے گی۔ سب سے زیادہ خوش قسمت قومی اسمبلی کے ارکان ثابت ہوئے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے صرف دو ممبرانِ سینیٹ کا انتخاب کرنا ہے،مگر لگتا ایسے ہے جیسے پورے سینیٹ کا دارو مدار انہی کے ووٹ پر ہے۔ یہ اس وجہ سے ہوا کہ آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو امیدوار نامزد کر دیا۔اُن کے مقابل اگر کوئی عام امیدوار ہوتا تو شاید اتنا بڑا زور نہ پڑتا، لیکن وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو میدان میں اُتار کر حکومت نے گویا ایک بڑے معرکے کی بنیاد رکھ دی۔ اب ظاہر ہے یہ حکومت کے لئے اپنی ساکھ کا مسئلہ ہے۔اگر عبدالحفیظ شیخ ناکام رہتے ہیں تو حکومت کے لئے انتہائی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔اُس کی ایوان میں برتری پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔دوسری طرف سید یوسف رضا گیلانی ہیں جن کی اپنی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔وہ اگر کامیاب ہوئے تو اُن کے نام کا ڈنکا بج جائے گا، ناکام ہوئے تو ایک بڑے پارلیمنٹرین ہونے کے دعوؤں پر پانی پھر جائے گا۔

پنجاب میں جو اتفاقِ رائے ہوا، حکومت اس طرح کا اتفاقِ رائے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی ڈھونڈتی رہی،مگر وہاں کوئی چودھری پرویز الٰہی جیسا اسپیکر نہیں جو آگ پانی کا ملاپ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، سو بات بن نہیں رہی اور لگتا ہے کہ فیصلہ ووٹنگ کے ذریعے ہی ہو گا۔سندھ کی صورتِ حال بھی آخر تک بڑی گھمبیر رہی۔پی ٹی آئی نے یہ الزام بھی لگا دیا کہ اس کے تین صوبائی ارکانِ اسمبلی کو اغوا کر لیا گیا ہے، جبکہ اُن میں سے دو کے وڈیو بیانات سامنے آئے کہ انہیں کسی نے اغوا نہیں کیا،بلکہ وہ اپنی جماعت کی پالیسیوں سے ناراض ہیں، اِس لئے ووٹ نہیں دیں گے، کھچڑی ایسے پک رہی ہے جیسے مصر کا بازار لگا ہو۔اس صورتِ حال میں سپریم کورٹ کی رائے بھی سامنے آ گئی، جو اُس نے صدارتی آرڈیننس پر بھیجے گئے ریفرنس پر دی، جس میں یہ واضح کر دیا کہ انتخابات خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہی ہوں گے تاہم ووٹ کی راز داری لامحدود مدت تک نہیں رکھی جا سکتی۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو یہ بھی زور دے کر کہا کہ وہ شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنائے، نیز ووٹ کی حرمت کو بدنیتی کے تحت خراب کرنے کے عمل کو روکے۔ سپریم کورٹ کی اس رائے کو حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے اپنے اپنے معانی پہنائے۔ ہر ایک نے اسے اپنی جیت قرار دیا۔دونوں ہی فیصلے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے پاس پہنچے اور فیصلے کے وہ مقاصد بیان کئے جو ان کے حق میں جاتے تھے۔ایسا شاید اِس لئے کیا گیا کہ وہ ارکانِ اسمبلی جو اِدھر اُدھر جانے کے لئے پَر تول رہے ہیں، تھوڑا چوکنا ہو جائیں، تاہم جو فیصلہ کر چکے ہیں وہ ایسی باتوں سے کہاں رکنے والے ہیں، اس کی مثال سندھ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے وہ تین ارکانِ اسمبلی ہیں جنہوں نے علی الاعلان یہ کہہ دیا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔آئینی ماہرین کے مطابق سینیٹ انتخابات میں کسی رکن ِ اسمبلی پر ایسی کوئی قدغن نہیں کہ وہ لازماً اپنی جماعت کے امیدوار کو ہی ووٹ دے، البتہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اُس نے اپنے ضمیر کی بجائے مالی مفاد کے لئے ایسا کیا ہے تو اس کے خلاف سپریم کورٹ کی اس حالیہ رائے کے مطابق الیکشن کمیشن کارروائی کر سکتا ہے۔اب یہ ثابت کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔

آسان بات تو یہ بھی نہیں ہے کہ قومی اسمبلی میں حکومتی امیدوار کو شکست ہو جائے،لیکن اس کے باوجود ماحول ایسا بن گیا ہے جیسے سید یوسف رضا گیلانی حکومت کا تختہ الٹانے جا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی نے ارکانِ اسمبلی کے نام جو خط لکھا ہے،اُس کی ایک کاپی وزیراعظم عمران خان کو بھی بھیجی ہے۔اُن سے بھی درخواست کی ہے کہ سینیٹ کا ممبر بننے کے لئے انہیں ووٹ دیں،کیونکہ یہ پارلیمانی نظام کے لئے اُن کی خدمات کا اعتراف ہو گا۔عام حالات میں ایسی حرکت کو چھیڑ خوانی کہا جاتا ہے،کیونکہ اپنے فریق ِ مخالف ہی سے ووٹ مانگنا کسی مذاق سے کم نہیں،تاہم سید یوسف رضا گیلانی نے یہ مذاق بھی خوب کیا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ انہوں نے مذاق مذاق میں ایک ایسی ہلچل مچا ڈالی ہے کہ جو پی ڈی ایم اپنی دو تین ماہ سے جاری تحریک کے باوجود برپا نہیں کر سکی۔ اس دوران سب نے دیکھا کہ آصف علی زرداری کیسی کیسی چالیں چل رہے ہیں۔انہوں نے حکومت کی نیندیں اڑانے کے لئے یہ چال بھی چلی کہ ایم کیو ایم کو سندھ سے دو سینیٹ نشستوں کی پیشکش کر دی،صرف یہی نہیں، بلکہ سندھ حکومت میں ایک وزارت دینے کا عَلم بھی لہرا دیا۔ ایک بار تو حکومت کو یوں لگا جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ خود ایم کیو ایم بھی ڈانواں ڈول ہو گئی۔ اب کہنے کو تو ایم کیو ایم نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ حکومت کی اتحادی ہے اور حکومتی امیدوار کو ہی ووٹ دے گی،مگر شکوک و شبہات کے سائے البتہ آج شام تک منڈلاتے رہیں گے۔

پہلی بار یہ بھی لگ رہا ہے کہ شاید اس سارے معاملے سے اسٹیبلشمنٹ نکل گئی ہے ایسا نہ ہوتا تو حکومتی کیمپوں میں اتنی بے چینی نہ ہوتی۔ ویسے بھی یہ حکومت تو اِس بات کی دعویدار ہے کہ وہ اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں۔ ایک پیج ہے تو حکومتی جماعت کے ارکانِ اسمبلی کیوں اِدھر اُدھر ہو رہے ہیں، ویسے بھی ڈسکہ انتخابات کے واقعہ نے جو ہلچل مچائی ہے اُس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کوئی الزام اپنے سر لینے کو تیار نہیں ہوگی۔اب جو کچھ ہو رہا ہے سیاسی قوتیں کر رہی ہیں اور یہ اُن کے پاس اچھا موقع ہے کہ خود کو جمہوریت کا اہل اور محافظ ثابت کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں