دیکھا جو تیرکھا کے

تحریر:آصف شہزاد
وزیر اعظم نے پنجاب کے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کو پنجاب بھر میں قبضہ مافیا کے خلاف بھر پور کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قبضہ مافیا ایک ناسور بن چکا ہے۔ پاکستان میں اپنی زندگی بھر کی پونجی لگانے والوں کے ساتھ زیادتی کا ازالہ کیا جائے۔ ان کی زمینوں پر قبضہ ناقابل برداشت ہے۔ ان کی داد رسی کی جائے اور سارے معاملے کی رپورٹ ہر ہفتے پیش کی جائے۔وزیر اعظم کا یہ فیصلہ قابل ستائش ہے۔ لیکن قبضہ مافیا کا انداز کار ایسا ہوتا ہے کہ اس کے خلاف کارروائی کرنے والے ادارے بھی بے بس نظر آتے ہیں۔قبضہ مافیا کے لوگ بڑے منظم طریقے سے کام کرتے اور انہیں کسی نہ کسی انداز میں پولیس اور ریونیو کے عملے کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔کچھ ایسے بھی ہوتے جن کے اپنے سگے رشتہ دار بھی ان سے دغا کر جاتے ہیں۔مجھے کچھ ایسے واقعات کا ذاتی علم ہے۔ان واقعات کے سد باب کے لئے قانونی کارروائی سے بڑھ کر کچھ اقدامات کی ضرورت ہے۔

میرے ایک جاننے والے صاحب کینڈا میں مقیم ہیں۔ انہیں ہر سال یا دوسرے سال پاکستان آنے کا بہت شوق تھا۔ کیا کریں وطن کی مٹی پکارتی ہے اور آدمی مجبور ہوتا ہے۔ مالدار آدمی تھے۔ سوچا ہر دفعہ کسی عزیز کے گھر رہنے کی بجائے اپنا گھر بنا لیا جائے۔ ایک اچھی جگہ انہوں نے ایک کنال کا پلاٹ لیا اور کسی ٹھیکیدار سے بات کرکے اس کی تعمیر شروع کر دی۔ تعمیر کے دوران انہیں تین دفعہ پاکستان آنا پڑا۔ کچھ عرصے میں مکان تعمیر ہو گیا۔ وہ بڑے خوش تھے۔بڑے چاؤ سے انہوں نے گھر کو سجایا کہ ہر سال دو تین ماہ اس گھر میں رہنا ہے۔ شاندار فرنیچر،بہترین برتن اورچن چن کر لائی ہوئی چیزوں سے گھر کو بھر دیا۔ مگر اب مکان کی حفاظت بھی درکار تھی۔ ان کے ایک بہت قریبی عزیز نے منت کی کہ اس کے پاس کوئی گھر نہیں۔ وہ اگر اسے ایک دو کمرے دے دیں تو وہ مکان کے کرائے سے بچ جائے گا اور گھر کی حفاظت بھی کرے گا۔ انہوں نے خوشی خوشی اسے گراونڈ فلور پر ایک سائڈ کے دو کمرے دے دئیے، باقی سارے مکان کو تالے لگائے اور کینڈا واپس چلے گئے اس یقین کے ساتھ کہ ان کی غیر موجودگی میں ان کا گھر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

کچھ عرصے بعد انہیں اطلاع ملی کہ دو کمروں کے مکینوں نے گھر کے سارے تالے توڑ دئیے ہیں اور پورے گھر پر قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے فون پر پوچھا تو پتہ چلا کہ چور آئے تھے اور تالے توڑ گئے۔کینیڈا سے انہوں نے کچھ پیسے بھیجے کہ نئے تالے لگوا لیں۔ پیسے وصول کرنے کے بعد بھی کمروں کو تالے نہ لگے اور نہ ہی کوئی صورت حال تبدیل ہوئی۔ تنگ آ کر وہ خودتین چار دن کی چھٹی پر پاکستان پہنچ گئے۔ یہاں عجیب حالت تھی۔ وہ پانچ چھ بیڈ روم سیٹ کرکے گئے تھے۔ اب کوئی بیڈ روم ایسا نہ تھا جہاں وہ قیام کرتے۔ قیمتی چیزیں غائب تھیں۔ ہر بیڈ روم کا برا حال تھا اور اس پر کسی بچے کا قبضہ تھا۔ ان کی اپنے عزیز سے کچھ تلخی بھی ہوئی اور انہوں نے مکان خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔کچھ محلے داروں کے کہنے پراور اپنے عزیز کے دو ماہ میں مکان خالی کرنے کی یقین دہانی پر وہ واپس کینیڈا چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد قابض عزیز نے کچھ بدمعاشوں سے رابطہ کیا۔ مکان کی مارکیٹ قیمت لگوائی اور صرف قبضے دینے کا مارکیٹ کا مروجہ ریٹ کل قیمت کا تیس فیصد وصول کیا اور مکان بدمعاشوں کو دے کر غائب ہو گئے۔

مالک مکان کو اطلاع ملی تو کینڈا سے لمبی چھٹی لے کر صورت حال سے نمٹنے کے لئے پاکستان پہنچ گئے۔گھر پر مسلح اشخاص قابض تھے۔ پولیس سے مدد چاہی تو تھانے میں دونوں فریقوں کو بلا لیا گیا۔ایک طرف ایک اکیلا اصلی مالک تھا تو دوسری طرف قبضہ گرو پ کے جعلی مالک اور اس کے حمایتی پچاس سے زیادہ لوگ۔ دونوں کے پاس مکان کی ملکیت کے کاغذات موجود تھے۔پولیس جعلی کاغذات کو اصلی قرار دے کر انہیں فراڈیا قرار دینے لگی۔تنگ آ کر انہوں نے اپنے ایک انتہائی با اثر رشتہ دار سے بات کی ان کے کہنے پر بدمعاش ان کے پاس پہنچ گئے۔ پتہ چلا کہ بدمعاشوں نے مکان کی قیمت کا تیس فیصد قبضے کے لئے اور دس فیصد سے زیادہ ریونیو سٹاف کو پچھلی تاریخوں میں ملکیتی کاغذات تیار کرنے کو دیے ہیں۔ حفاظت اور قبضے کو برقرار رکھنے کے لئے مسلح افراد کی تنخواہ پر بھی معقول خرچ آیا ہے۔لمبے مذاکرات کے بعد بدمعاشوں نے اپنے خرچ کی مد میں ایک کروڑ سے زیادہ وصول کیا۔ کچھ پیسے مکان کی مرمت پر خرچ ہوئے۔ شاید سوا دو کروڑ میں وہ مکان بکا۔ یوں اپنی آدھی رقم اپنے با اثر رشتہ دار کی مدد سے بچا کر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاکستان چھوڑ گئے اور اس کے بعد سے آج تک کبھی پاکستان واپس نہیں آئے۔

میرا ایک کلاس فیلو چالیس سال دبئی میں مقیم رہا۔ وہ اپنے نالائق اور غریب بڑے بھائی کو اس کے خاندان کی کفالت کے لئے بھی پیسے بھیجتا رہا۔ پہلے اس نے ایک کنال زمین مکان بنانے کے لئے خریدی۔ بیعانہ خود دیا مگر واپس جا کر پیسے بھیجے اور رجسٹری بھائی نے کرائی۔ پھر اس نے لاہور کے ایک انتہائی اہم چوک میں ڈیڑھ کنال زمین خریدی اور اس پر ایک شاندار پلازہ بنایا۔کچھ عرصہ پہلے وہ چالیس سال بعد اپنے وطن واپس آیا کہ رہنے کے لئے مکان اور آمدن کے لئے شاندار پلازے کی موجودگی میں وہ بقیہ دن آرام سے گزارے گا تو پتہ چلا کہ ہر چیز بڑے بھائی نے اپنے نام پر خریدی ہے۔ بھائی کا موقف ہے کہ اس نے تو صرف پیسے بھیجے ہیں مکان اور پلازہ بنانے پر میری ساری محنت خرچ ہوئی ہے۔ وہ سارے پیسے جو اس نے اسی اور نوے کی دہائی میں مجھے دئیے تھے، قسطوں میں مجھ سے چار پانچ سال میں لے لے مگر گھر اور پلازہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔جی ہاں دیکھا جو کھا کے تیر۔

ہزاروں ایسی داستانیں، کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ حکومت بے بس ہے۔ سب کچھ پولیس اور ریونیو سٹاف کی مدد سے ہوتا ہے، کون پوچھے گا۔ سرکاری زمینوں پر قبضے کی صورت حال اس سے سنگین ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا۔ کوئی مہینہ پہلے میرے گھر ایڈ ن پارک کو جو سڑک آتی ہے اس پر قبرستان سے پہلے دو پلاٹ والوں نے اپنے پلاٹ کی چاردیواری میں سڑک کی دو سو فٹ لمبی اور بارہ تیرہ فٹ چوڑی سڑک کی زمین کو اپنے رقبے میں شامل کیا، انہیں کسی نے پوچھا نہیں۔پاس ہی گھروں کے پیچھے ایک د س فٹ کا راستہ ہے اس میں سے نہر کا پانی بھی گزرتا تھا۔ کچھ راستہ موجود ہے باقی سب پر لوگوں نے قبضہ کر لیا ہے، راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ لوگوں نے ایک دوسرے پر مقدمہ کیا ہوا ہے کہ اس نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ حالانکہ دونوں ناجائز قابض ہیں۔حکومتی پروردہ سیاست دان بھی کوئی بہت نیک نہیں، میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ ایک حکومتی سیاستدان گندے نالے کے اطراف مٹی ڈال کر دکانیں بنا رہا ہے۔کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔سنجیدہ اقدامات کے لئے نعرے بازی سے بڑھ کر کچھ کارروائی، کہ جس کے نتیجے میں لوگ عبرت حاصل کریں، آج کی بہت بڑی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں