لاپتہ کوہ پیماﺅں کی تلاش کیلئےتیاریاں مکمل، خصوصی ٹیم تشکیل دیدی گئی

لاہور . سردیوں میں بغیر آکسیجن “کے ٹو” سر کرنے کی مہم جوئی کے دوران لاپتہ کوہ پیماوَں کی تلاش کاآج دوسرا روزہے،محمد علی سدپارہ اور ساتھیوں کی تلاش کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دیدی گئی،پاک آرمی کے 2ہیلی کاپٹر ریسکیو ٹیم بلترو سیکٹر پہنچ گئے ہیں،4 مقامی کوہ پیماؤں کی مدد سے آج سرچ آپریشن کیا جائے گا،کے ٹو کی 8 ہزار بلندی پر آج موسم قدرے بہتر ہے،معاون خصوصی زلفی بخاری ریسکیو آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں۔

نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق کے ٹو کو سردیوں میں فتح کرنے کی مہم، نامور پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ ،آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جان پابلو انتہائی بلندی پر پہنچنے کے بعد واپس نہیں پہنچ سکے۔علی سدپارہ سمیت دیگر کوہ پیماؤں کا جمعہ سے کیمپ سے رابطہ منقطع ہے،ہیلی کاپٹر کے ذریعے کوہ پیما ٹیم کی تلاش کی گئی لیکن خراب موسم اور تیزہواؤں کے باعث ریسکیو آپریشن کامیاب نہ ہوسکا۔ آرمی کے ہیلی کاپٹر نے 7000 میٹر کی بلندی تک پرواز کی اور واپس سکردو لوٹ گئے۔

مہم جوئی میں علی سد پارہ کے ساتھ ان کے بیٹے ساجد سد پارہ بھی موجود تھے جو آکسیجن ریگولیٹر خراب ہونے پر بحفاظت کیمپ ون میں پہنچ گئے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ عمران خان اور آرمی چیف معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں، موسم کی صورتحال سازگار نہ ہونے کے باعث مشن آسان نہیں ہے۔ کوہ پیماؤں کی واپسی کیلئے قوم سے دعاؤں کی اپیل ہے، علی سدپارہ کی بحفاظت واپسی کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

آئس لینڈ کے وزیر خارجہ اور شاہ محمود قریشی میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا،وزیر خارجہ نے انہیں لاپتہ کوہ پیماو¿ں کی کھوج کیلئے جاری ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ آئس لینڈ کے وزیر خارجہ نے کوہ پیماؤں کی تلاش کیلئے کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

لاپتہ پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ اور دوغیرملکی کوہ پیما سردیوں میں بغیر آکسیجن کے ٹو کو سر کرنے کی کوشش کررہے تھے، محمد علی سد پارہ نے 2016 میں سردیوں کی مہم جوئی کے دوران پہلی بار نانگا پربت کو سر کیا تھا۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے آٹھ ہزار میٹر کی آٹھ چوٹیاں فتح کرنے کے علاوہ ایک سال کے دوران آٹھ ہزار میٹر کی چار چوٹیاں سر کی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں