پنجاب میں قبضہ گروپوں سے 200 ارب روپے سے زائد کی زمین واگزار کرائی: شہزاد اکبر

اسلام آباد.وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ پنجاب میں قبضہ گروپوں سے 200 ارب روپے سے زائد کی زمین واگزار کرائی گئی ہے، کھوکھر برادران سے ڈیڑھ ارب روپے کی زمین واگزار کرائی گئی ہے، شریف خاندان کو قبضہ گروپوں سے ملنے والے مالی فوائد اب چھن گئے ہیں۔

اسلام آباد میں وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ مریم نواز نے سرکاری زمین پر کھڑے ہو کر حقائق کے برعکس باتیں کیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریف خاندان کو قبضہ گروپوں سے ملنے والی مالی فوائد اب چھن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں قبضہ گروپوں سے 200 ارب روپے سے زائد کی زمین واگزار کرائی گئی ہے، کھوکھر برادران سے ڈیڑھ ارب روپے کی زمین واگزار کرائی گئی ہے، شریف خاندان کو قبضہ گروپوں سے ملنے والے مالی فوائد اب چھن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قصور میں ایک ہزار 52 کنال اراضی واگزار کرائی گئی ہے، لاہور کے نواح میں 80 کنال 4 مرلہ زمین واگزار کرائی گئی ہے، دانیال عزیز کے والد سے سرگودہا میں 2400 کنال اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔ چوہدری تنویر سے راولپنڈی میں 5 ہزار کنال اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں جاوید لطیف سے 8 کنال 2 مرلہ زمین اور شیخوپورہ میں 5 دکانیں اور سروس سٹیشن واگزار کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واگزار کرائی گئی زمینوں پر اعتراض ہے تو عدالت جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں مالی فائدہ اٹھانے والے ان کے ساتھ ہیں، عوام نہیں ہے، کھوکھر برادران کے 100 کنال کے محل میں 45 کنال سرکاری اراضی شامل تھی جسے واگزار کرایا گیا ہے، اس زمین کے حوالہ سے باقاعدہ کیس چلا اور اسے کمشنر نے سرکاری اراضی قرار دیا جس کے بعد اس کو واگزار کرانے کیلئے کارروائی کی گئی۔ یہ اس وقت عدالت نہیں گئے۔جب اراضی واگزار کرائی گئی پھر یہ لاہور ہائی کورٹ چلے گئے، لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جو سرکاری رقبہ بازیاب کرایا گیا ہے اس کے علاوہ ان کی زمین کو ڈی سیل کیا جائے ، ایڈیشنل سیشن جج نے بھی ان کا حکم امتناعی ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی انتقام کا شور مچانے والوں سے متعلق عوام کو حقائق سے آگاہ کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں