شہبازگل کے خلاف دعویٰ دائر کرنے والا گرفتار ، حکومتی ترجمان نے مقدمے میں کیا موقف اختیار کیا ؟ایف آئی آر سامنے آ گئی

لاہور .حکومتی ترجمان شہباز گل نے ترک کمپنی کے دو ترکش عہدیداروں سمیت 3افراد پرمقدمہ درج کرادیا ہے ، ترک کمپنی کے عہدیداروں نے شہباز گل کےخلاف عدالت میں ہتک عزت کا دعوی دائرکیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام پورہ پولیس نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی اورحکومت کے ترجمان ڈاکٹر شہبازگل پرعدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ کرنے والے ترک کمپنی کے دو افراد سمیت تین عہدیداروں کے خلاف فراڈ،دھوکا دہی اور جعلسازی سے دستاویزات کی تیاری واستعمال کرنے سمیت دیگر دفعات کے تحت قدمہ درج کر لیاہے۔

شہبازگل نے درج کرائے گئے مقدمے میں موقف اختیار کیا ہے کہ ملزمان طاہر مبین،مسٹرسیمئل سینوسک اور مسٹریمن یمن نوگلو نےشاہین کمپلیکس ایجرٹن روڈ پرچند نا معلوم افراد کے ساتھ باہم صلاح مشورہ ہو کردھوکہ و فراڈ کرتے ہوئے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سائل کی عزت و شہرت کو نقصان پہنچانے، بلیک میل کرنے اور اصل حق عوام تک پہنچانے سے باز و منع رکھنے کے لئے انتہائی چالاکی سے میسرز پلیٹ فارم کمیٹی کے لیٹر ہیڈ پیڈزکو استعمال کرتے ہوئے،اختیار نہ ہونے کے باوجودمیرے خلاف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لا ہور کی عدالت میں ایک من گھڑت کہانی بنا کر درخواست دائر کی ہے۔

ان افراد نے پلیٹ فارم کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس، ریزولیشن کی منظوری کے بغیر درخواست فائل کرکے تفویض شدہ اختیارکے بغیر اپنے آپ کو کمپنی کے طور پر پیش کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر جعلسازی کرتے ہوئے دو اتھارٹی لیٹر تیار کر کے اورمسٹرسیمئل سینوسک جو پاکستان میں موجود ہی نہیں کے جعلی دستخط کر کے اپنے مذموم مقاصد کے لئے سائل کے خلاف جھوٹی درخواست دائر کر کے سائل کو نقصان پہنچانے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

سائل کے ساتھ سخت زیادتی ہوئی ہے۔ جس پر ان افراد کے خلاف دھوکہ و فراڈ سے جعلی دستاویزات تیار کرنے ،جعلی دستاویزات عدالت میں استعمال کرنے اور اپنے آپ کو بطور کمپنی بلا اختیار ظاہر کرنے پر مقدمہ درج کر کے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے۔اسلام پورہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایک ملزم طاہر مبین کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں